24 مئی 2013 - 19:30
ڈرون حملوں کا کنٹرول سی آئی اے سے لے کر پینٹاگون کے حوالے

امریکی حکومت نے سی آئی اے کو ٹارگٹڈ کلنگ کے خفیہ آپریشنز سے ہٹاکر اس کے اصل کردار جاسوسی کی طرف واپس لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ابنا: امریکہ کے صدر بارک اوباما نے ڈرون حملوں کے بارے میں صدارتی رہنما اصولوں پر دستخط بھی کر دیئے ہیں۔ جن کے تحت اب ڈرون حملوں کا کنٹرول خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) سے لے کر پینٹاگون کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں البتہ ان حملوں کا کنٹرول بدستور سی آئی اے کے پاس رہے گا۔ ڈرون حملوں سے متعلق امریکی انتظامیہ کی نئی پالیسی میں ان وجوہات کو بتایا گیا ہے جن کے تحت جنگی علاقوں کے علاوہ جیسا کہ پاکستان، یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس پالیسی کا ایک خاکہ میڈیا کو جاری کیا گیا جس میں انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس کی ترجیح ہوگی کہ وہ دہشت گردوں اور مشتبہ افراد کو پکڑے اور ڈرون حملے اس وقت کیے جائیں گے جب امریکہ کو فوری کوئی خطرہ لاحق ہو۔ اس کے علاوہ انتظامیہ نے ایک معیار بھی ترتیب دیا ہے جس کے تحت ڈرون حملوں کی منظوری دی جائے گی۔ یہ حد درجے تک یقینی ہو کہ ہدف موجود ہے، اسے گرفتار کرنا ممکن نہیں ہے، کوئی عام شہری زخمی یا مارا نہیں جائے گا۔ دیگر ذرائع کے مطابق امریکی حکومت نے سی آئی اے کو ٹارگٹڈ کلنگ کے خفیہ آپریشنز سے ہٹاکر اس کے اصل کردار جاسوسی کی طرف واپس لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق نائن الیون کے بعد سی آئی اے میں کاوٴنٹر ٹیررازم سینٹر قائم کیا گیا۔ اس کا کام ایسے افراد کو ڈھونڈنا اور مارنا ہے جنہیں امریکہ کیلئے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان، یمن اور دیگر علاقوں میں ٹارگٹڈ کلنگ آپریشنز کے لئے متنازع ڈرون حملے سی آئی اے کے سب سے بڑے ہتھیار کے طور پر سامنے آئے۔ اب اوباما انتظامیہ نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت کاوٴنٹر ٹیررازم سینٹر کے آپریشنز بند کر دیئے جائیں گے اور سی آئی اے کو جاسوسی اور اسٹریٹجک تجزیوں کے روایتی کردار کی طرف واپس لایا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت ڈرون پروگرام پینٹاگون کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

.....

/169